کرنسی کنورٹر

اوپن مارکیٹ ریٹس

ہمیں فالو کریں

759,165FansLike
9,842FollowersFollow
534,000FollowersFollow
146,564SubscribersSubscribe

750 ارب روپے خسارےکا بجٹ آج پیش کیا جائے گا

مسلم لیگ ـ(ن) اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی اتحادی حکومت آج 750 ارب روپے خسارے کا مالی سال 2023-24ء کا 14 ہزار 500 ارب روپے مالیت کا بجٹ پیش کرے گی۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 20 اور پنشن میں 15 فیصد اضافے کا امکان ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹرمحمد اسحاق ڈار قومی اسمبلی میں شام تقریبا 4بجے مالی سال 24-2023ء کا بجٹ پیش کریں گے ،آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 750 ارب خسارے کا تخمینہ لگایا گیا ہے ،7 ہزار 300 ارب روپے سود اور قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو ں گے۔

رپورٹ کے مطابق دفاع کیلئے 1800 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ، مہنگائی کا تخمینہ 21 فیصد لگایا گیا ہے ، شرح نمو 3۔5 فیصد رہنے کا امکان ہے اور برآمدات کا ہدف 30 ارب ڈالر مقرر کیا گیاہے، سبسڈیز کا تخمینہ 1250 ارب روپے لگایا گیا ہے، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے 430 ارب رکھنے کی تجویز ہے ۔

وزیراعظم نے 1100 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دے دی:احسن اقبال

نئے سال کے وفاقی بجٹ میںعوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے ، زرعی شعبے کی ترقی اور زرعی صنعت میں جدت، انفامیشن ٹیکنالوجی کا فروغ، برآمدات میں اضافہ ، صنعتی ترقی کو فروغ دینا،حکومت عوام اور کاروبار دوست وفاقی بجٹ پیش کرنے کیلئے پوری طرح سے پرعزم ہے۔

نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں خسارے پر قابو پانے کیلئے مالیاتی استحکام کی پالیسیوں پر بھی توجہ دی گئی ہے،آئندہ مالی سال 2023-24ءکے بجٹ میں بیرونی مالیاتی ادائیگوں کے انتظام کے علاوہ محصولات میں اضافہ، اقتصادی استحکام اور ترقی کیلئے اقدامات، غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی اور ملک کی سماجی و اقتصادی خوشحالی کیلئے عوام دوست پالیسیاں شامل کی جائیں گی۔

نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں گورننس میں بہتری اور سرمایہ کاری کیلئے نجی شعبے کو فروغ دینے کیلئے اصلاحات متارف کرانے کے علاوہ سماجی شعبے کی ترقی پر بھی توجہ دی جا رہی ہے ۔

حکومت ٹیکس وصولی کے نظام میں بہتری لانے ، ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے اور ٹیکس دہند گان کو سہولت فراہم کرنے کیلئے اقدامات کرے۔

سماجی شعبے کی ترقی پر بھی توجہ دی جارہی ہے ، حکومت ٹیکس وصولی کے نظام میں بہتری لانے، ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے اور ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنے کیلئے اقدامات کرے گی۔

جاری مالی سالکے دوران محصولات کی مضبوط نمو کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے مالی سال 2023- 24 کیلئے محصولات کی وصولی کا ہدف 9 کھرب روپے سے زیادہ مقرر کرنے کا امکان ہے۔