کالعدم ٹی ٹی پی سربراہ ملا فضل اللہ امریکی ڈرون حملے میں ہلاک، افغان حکام کی تصدیق

افغان وزارتِ دفاع نے امریکی ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق افغان وزارت دفاع کے حکام نے صوبہ کنڑ میں امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملا فضل اللہ نے13 جون کو افغان صوبہ کنّڑ کے ضلع مروارہ میں ایک افطار میں شرکت کی، جس کے بعد رات دس بج کر 45 منٹ پر جب وہ اپنی گاڑی میں بیٹھا تو اس پر ڈرون حملہ ہوا۔ اس وقت اس کے ہمراہ 3 دیگر ساتھی بھی موجود تھے۔ حملے میں 5 افراد ہلاک ہوئے جن کی سوختہ لاشوں کو اسی رات سپردِ خاک کر دیا گیا۔ تاہم کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے تاحال ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔واضح رہے کہ افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے ترجمان لیفٹینٹ کرنل مارٹن اوڈونل نے گزشتہ روز بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا کہ 13 اور 14 جون کی شب امریکی فوج نے پاک افغان سرحدی علاقے میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک کارروائی کی جس کا ہدف دہشت گرد قرار دی گئی ایک تنظیم کا سینیئر رہنما تھا۔1974 میں سوات میں پیدا ہونے والے ملا فضل اللہ نے انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کی تھی۔ ملا فضل اللہ کو 2005 اور 2006 میں غیر قانونی ایف ایم ریڈیو کے ذریعے نشر کئے جانے والے بیانات کی وجہ سے سوات کے لوگوں میں کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔2009 میں ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے پر سوات میں فوجی آپریشن کا آغاز کیا گیا۔ آپریشن کے دوران ملا فضل اللہ روپوش ہوگیا۔ ملا فضل اللہ کو 2013 میں حکیم اللہ محسود کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد تحریک طالبان پاکستان کا سربراہ چنا گیا، اس نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں اسکول کے 132 بچوں سمیت 148 افراد شہید ہوگئے تھے۔ رواں برس مارچ میں امریکا نے ملا فضل اللہ کی اطلاع دینے پر 50 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا۔ ملا فضل اللہ کی کئی مرتبہ ہلاکت کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔