کیس ہمارے دائرہ کار میں نہیں آتا،سپریم کورٹ نے دعا زہرا کے والد کی درخواست نمٹا دی

سپریم کورٹ سندھ رجسٹری نےدعا زہرا بازیابی کیس میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف والدین کی درخواست پر سماعت کی ۔

عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ آپ کی بیٹی کو سندھ ہائی کورٹ میں لایا گیا۔ آپ کی بیٹی نےدو عدالتوں کے سامنے اپنا بیان دیا کہ اس نے مرضی سے شادی کی اور وہ اپنے خاوند کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔اس معاملے میں چائلڈ میرج ایکٹ کا معاملہ تو سمجھ میں آتا ہے لیکن اغوا کی بات سمجھ میں نہیں آتی ۔

جسٹس سجادعلی باقر نے کہا کہ آپ کا مسئلہ کیا ہے ؟ آپ کا دعویٰ سمجھ میں نہیں آتا جب لڑکی دو عدالتوں میں بیان کے بعد آپ سے ملکر بھی خاوند کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ اللہ نے بچوں کو آزاد پیدا کیا ہے۔ہم والدین کا دکھ بھی سمجھتے ہیں لیکن قانون کے مطابق بچی کے دو عدالتوں میں بیان ہو چکے ہیں ۔آپ اب کسی پر اغوا یا زبردستی کے الزمات نہیں لگا سکتے بچی کے بیان ہو چکے ہیں ۔والدین بچی سے مل لیں چاہیں 6 گھنٹے مل لیں آپ کو کوئی نہیں روک رہا۔آپ اصل میں چاہتے ہیں کہ عدالت شادی کے لیے بچی کی عمر کا تعین کرے ؟

دعا کے والد نے کہا جی ،بچی ابھی چھوٹی ہے اور ہم میں ولی کے بغیر شادی نہیں ہوتی ۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ شادی کو تو صرف بچی ہی چیلنج کر سکتی ہے۔ہم بچی سے زبردستی نہیں کر سکتے۔

جسٹس منیب اخترنے کہا کہ آپ وارث کا کیس سیشن کورٹ یاسول کورٹ میں دائر کر سکتے ہیں قانون کے معاملات کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔ہم معاملے کی حساسیت کو سمجھتے ہیں لیکن اس میں جزباتی ہونے کی ضرورت نہیں ۔آپ میرج ایکٹ پڑھ کر دیکھ لیں ۔ شادی کو صرف لڑکی ہی چیلنج کر سکتی ہے۔ اغوا کا کیس بنتا ہی نہیں ۔لڑکی کی عمر 16 سال سے کم بھی ہو تو نکاح ختم نہیں ہوتا۔

بعد ازاں دعا زہرہ کے والد کے وکیل نے درخواست واپس لینے کی اپیل کی جس کوعدالت نے منظور کرتے ہوئے کیس نمٹا دیااور مہدی کاظمی کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کاحکم دے دیا۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

76 − 71 =