’’ترنے پے گئے کھال نی مائے‘‘

حسن نثار
جوانی کے دنوں کی یادگار اک بھولا بسرا شعر یاد آگیا جس کے ساتھ اک چھوٹی سی معصوم کہانی بھی وابستہ ہے لیکن کہانی پھر کبھی سہی، آج صرف شعر تک محدود رہتے ہیں؎مکرنا چاہوں تو اپنے سے شرم آئے مجھےمیں چاہتا ہوں کہ تو خود ہی چھوڑ جائے مجھےدن دہاڑے سرعام مکرنے کے لئے بڑے ’’حوصلے‘‘ کی ضرورت ہے لیکن سیاستدانوں میں اس ہمت و حوصلہ کی ایسی فراوانی ہے کہ بیان کرنا ممکن نہیں۔ ووٹ کو عزت دیتے ہوئے کتنی آسانی سے نواز صاحب نے یہ کہہ دیا۔۔۔۔’’اسمبلی میں تقریر اور قوم سے خطاب سنی سنائی باتیں تھیں‘‘ یقین نہیں آیا تو دوسرا اخبار اٹھایا جس کی سپر لیڈ تھی ’’اسمبلی میں خطاب میری نہیں بیٹے کی معلومات پر مبنی تھا‘‘ پھر یقین نہ آیا تو تیسرا اخبار دیکھا’’ اسمبلی کی تقریر عدالت میں پیش نہیں ہوسکتی، نواز شریف‘‘۔ یہ ہیں ان کے سرخیل جو عمران خان کو’’یوٹرن‘‘ کے طعنے دیا کرتے ہیں۔ قصور شاید نواز شریف کا بھی نہیں کہ سیاست بالخصوص ہماری سیاست کام ہی ایسا ہے۔ ’’کوئلوں کی دلالی میں منہ کالا‘‘ والا محاورہ تو بہت ہی آبرومندانہ کام ہے کہ سیاست میں صرف منہ ہی نہیں تن من دونوں ہی کالے ہوجاتے ہیں۔اس کلمونہی سیاست اور سیاستدانوں نے عوام سے لے کر اداروں تک کسی کے پلے چھوڑا کچھ نہیں۔ حیرت انگیز ترین انکشاف یہ ہے کہ پانی کامعیار جانچنے کے لئے ملک بھر میں قائم24 لیبارٹریز بند پڑی ہیں۔ جہاں نیتیں ہی صاف نہ ہوں وہاں پانی کیسے صاف ہوسکتا ہے؟ پہلے یہ سنتے تھے کہ سرکاری ہسپتالوں میں مہنگے ٹیسٹوں والی MRI ٹائپ مشینیں ہمیشہ بند پڑی ہوتی ہیں تاکہ غریب مریض مہنگی پرائیویٹ لیبارٹریز سے ٹیسٹ کرانے پر مجبور ہوں۔ یہ جان کر اپنے بارے جنرل نالج میں خاطر خواہ اضافہ ہوا کہ صرف ہمارے ہسپتالوں میں ہی نہیں، پانی چیک کرنے والی لیبارٹریز میں بھی جھاڑو پھر ا ہوا ہے۔ یہاں کوئی کسی سے محفوظ نہیں۔ معاشرہ کیا ہے’’جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے‘‘، کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تاتاری بغداد پر نہیں، ایک دوسرے پر پل پڑے ہیں لیکن جہاں درباروں کا لحاظ نہیں وہاں ہم تم کس کھاتے اورشمار قطار میں ہیں؟ یہاں اس بات کا ذکر ضروری اور دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ ہمارے ہاں شاہی درباروں اور اولیاء صوفیا کے درباروں میں کبھی فرق نہیں رہا اسی لئے لغت بھی گہری مماثلت رکھتی ہے مثلاً۔۔۔۔۔بادشاہوں کے دربار تو اولیاء صوفیا کے بھی ’’دربار‘‘وہاں بھی حاضری تو یہاں بھی ’’حاضری‘‘وہاں بھی قدم بوسی تو یہاں بھی ’’قدم بوسی‘‘وہاں بھی پشت نہیں کرنی اور یہاں بھی الٹے پائوں نکلنا ہےوہاں بھی گدی نشین یہاں بھی گدی نشین، تاجپوشی تو دستار بندی وہاں بھی عجز و انکسار یہاں بھی عجز و انکساراس سے امیدیں وابستہ، ان سے بھی مرادوں کا ملنادنیاوی بادشاہوں کے درباروں اور روحانی دنیا کے بادشاہوں کے درباروں میں کوئی فرق ہے تو بس اتنا کہ دنیاوی بادشاہوں کے دربار آخر کار اجڑ جاتے ہیں جبکہ ان درباروں کی رونقیں بڑھتی رہتی ہیں۔ بادشاہوں کے دربار مجبوری اور خوف، اصلی بادشاہوں کے دربار محبت اور خود سپردگی کے استعارے۔لیکن یہاں تو ہوس کے پجاریوں نے یہ کلچر بھی پامال کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھارکھی۔ صرف ایک دربار کی 30 کنال زمین صرف نو سو روپے فی مرلہ کے حساب سے دان کر دی گئی۔ ایل ڈی اے کو فروخت کے یہ احکامات پنجاب سپیڈ فیم شہباز شریف نے دئیے اور وزیر اوقاف کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ یہ کہانی ہے لاہور جی او آر ون سے ملحقہ حضرت شاہ شمس قادری کے دربارکی جن کے نام پر وقف 30کنال 10مرلہ 81مربع فٹ اربوں روپے مالیت کا مہنگا ترین رقبہ صرف 900روپے فی مرلہ ایل ڈی اے کو فروخت کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ ’’واردات‘‘ کی سمری براہ راست ایوان وزیر اعلیٰ ارسال کی گئی اور یاد رہے قانون کے مطابق وقف اراضی فروخت نہیں کی جاسکتی لیکن کردی گئی جس کی تفصیل شرمناک ہی نہیں، ہوشربا بھی ہے۔ابھی تو’’کریم آف دی سوسائٹی‘‘ اپنی قابل فخر وکلاء برادری کاذکر خیر باقی ہے جس نے میرے لائل پور المعروف فیصل آباد میں قانون کی ایسی پاسداری کی جس سے میرا سیروں خون بڑھ گیا۔ جلوس نکالا، کچہری میں کرسیاں توڑیں، نعرے بازی کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔ ڈپٹی کمشنر کا اجلاس قانونی جمہوری طریقے سے بند کرایا اور ڈی سی کو دفتر میںمحصور کردیا۔ پولیس پر تشدد، عدالتوں کا بائیکاٹ ، کچہری روڈ پر ٹریفک بند۔۔۔۔جس پر میں ان کا خاص طور پر ممنون ہوں کہ اس بہانے مجھے وہ لائل پور اور اس کی کچہری یاد آئے جہاں کبھی میرے والد کے دوست نایاب پنجابی شاعر انکل افضل احسن رندھاوا مرحوم پھرا کرتے تھے تو ان کی وہ انمول نظم بھی بے اختیار یاد آئی؎’’میں دریاواں دا ہانی ساںترنے پے گئے کھال نی مائےاینے پھٹ مرے جثے تےجنیں تیرے وال نی مائے‘‘ماں! میں دریائوں کا ہم عصر، ہمجولی، سنگی ساتھی تھا لیکن مجھے گندے کھالوں نالوں میں تیرنا پڑا‘‘’’اور اے ماں! جتنے بال تیرے سر پر ہیں، اتنے ہی زخم میرے جسم پر ہیں‘‘قارئین!معاف کیجئے میں ترجمہ کے ساتھ انصاف نہیں کرسکا جس پر معذرت خواہ ہوں لیکن میں کم از کم معذرت خواہ تو ہوں وہ تو اتنا تکلف بھی نہیں کرتے جو عدالت میں کہہ دیتے ہیں’’اسمبلی میں تقریر اور قوم سے خطاب سنی سنائی باتیں تھیں‘‘’’ترنے پے گئے کھال نی مائے‘‘۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here