وزیراعظم نے اپوزیشن کے جلسے جلوسوں کو نہ روکنے کا حکم دے دیا

اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کابینہ کااجلاس ہوا۔کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کا دورہ امریکا انتہائی اہم اور کامیاب رہا جس پر کابینہ نے وزیراعظم کو مبارکباد دی، اپوزیشن کو وزیراعظم کی عالمی سطح پر پذیرائی ہضم نہیں ہورہی، گزشتہ روز 25 جولائی 2018 کو مسترد ہونے والوں نے یوم سیاہ منایا، ہم 25 جولائی کو اپنے ووٹ کی سیاہی ان کے منہ پر ملی تھی یہ اس کا سوگ مناتے رہے، ایک ٹولہ احتجاج کی آڑ میں انتشار پھیلانے میں مصروف تھا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اپوزیشن کے جلسے جلوسوں کا نہ روکنے کا حکم دیا ہے، قوم خود دیکھے کہ اپوزیشن کے شو کتنے فلاپ ہیں، ہم چاہتے ہیں یہ انتشار کی سیاست سے باہر آئیں، اپوزیشن کا کل کا شو ناکام ہو گیا، اگلی بار اپوزیشن اپنی ناکامی پر یوم سیاہ منائے گی۔

ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں چیئرمین پی آئی اے نے ماضی کی داستانیں بیان کیں، 2008 سے 2018 تک سابقہ حکمرانوں نے پی آئی اے کو چنگچی کے طور پر استعمال کیا، چنگچی رکشا بھی اس طرح استعمال نہیں ہوتا جس طرح پی آئی اے کو استعمال کیا گیا، قومی ایئرلائن کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا گیا جو کرائے کی سائیکل کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا، سیاست کی بھینٹ چڑھنے والی قومی ایئرلائن خسارے کا شکار ہوئی، پی آئی اے کے پائلٹس ان کے ذاتی ڈرائیور کی طرح ڈیوٹیاں انجام دیتے رہے۔انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے میں سیاسی بنیادوں پر بلاجواز سالانہ 503 افراد کی غیر قانونی بھرتیاں ہوئیں، پی آئی اے کے 33 دفاتر یونین کے قبضے میں تھے، 2012 سے 2017 تک 50 وی آئی پی فلائٹس چلائی گئیں، ان فلائٹس پر ایک ارب 6 کروڑ کا نقصان ہوا، کروڑوں روپے جرمانہ بھی ادا کرنا پڑا، 31 ڈومیسٹک فلائٹس کو نیشنل روٹس سے ہٹا کر سکھر ایئرپورٹ پراتارا گیا، 21 پی آئی اے جہازوں کا 21 مرتبہ رخ تبدیل کروایا گیا، جہازوں کا رخ سکھر کی طرف موڑنے پر 55 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔

معاون خصوصی اطلاعات نے مزیدکہا کہ 45 وی آئی پی فلائٹس نواز فیملی کے لئے استعمال ہوئیں جس پر 950 کروڑ کا نقصان ہوا، نوازشریف کا علاج حکومتی خرچے پر ہوا، وہ جب لندن میں تھے تو دوران علاج پی آئی اے کا جہاز لندن میں کھڑا رہا جس پر 28 کروڑ روپے خرچ آیا، قوم کے بچے اس خاندان کی بیماریوں کا بل ادا کرتے رہے، اور ان کے اپنے بچےکروڑوں روپےکے گھروں میں رہتےہیں، سابق صدر کے دہی بھلوں کی قیمت قوم نے 27 کروڑ روپے کی شکل میں ادا کی۔ کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا ہے سابق حکمرانوں سے 2008 سے 2018 تک دہی بھلوں اور سیر سپاٹوں پر آنے والے کے اخراجات وصول کئے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں پی آئی اے میں بہتری آئی ہے، پی آئی اے کی آمدنی میں 22 فیصد اضافہ ہوا اور اخراجات میں 20فیصد کمی ہوئی، اس سال قومی ایئرلائن اپنے پاوٴں پر کھڑی ہوجائے گی، قیادت درست ہو تو بدترین حالات میں اچھے نتائج دیئے جاتے ہیں۔

جواب دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here

1 + 7 =